’دین بچاؤ دیش بچاؤ‘ یا اور کچھ ’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘

0
1115
دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس ،گاندھی میدان ،پٹنہ
All kind of website designing

عبدالعزیز 

امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کی طرف سے 15اپریل کو پٹنہ میں ’دین بچاؤ دیش بچاؤ‘ کانفرنس منعقد ہوئی۔ ’فیس بک‘ میں اس کانفرنس پر تنقیدیں ہورہی ہیں اور پٹنہ کے اخبارات میں زیادہ تر کانفرنس کے خلاف باتیں آرہی ہیں کہ مولانا محمد ولی رحمانی کانفرنس میں نریندر مودی پر برسے گرجے مگر مودی پرست نتیش کمار کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا، بلکہ ان کا شکریہ ادا کیا اور خالد انور کو کانفرنس کا روح رواں بتایا۔ کانفرنس کے فوراً بعد اس کے روح رواں اور مولانا کے پیروکار خالد انور کو مودی پرست نتیش کمار نے ایم ایل سی بنا دیا۔ نئے ایم ایل سی خالد انور بھی اپنی کامیابی پر اس قدر خوش ہوئے کہ مودی کابینہ کے نمبر 2 راج ناتھ سنگھ سے آشیرواد لینے چلے گئے ۔ تصویر فیس بک میں دیکھی جاسکتی ہے کہ خالد انور راج ناتھ سنگھ سے کس قدر جھک کے مل رہے ہیں۔ کیا کانفرنس کی کامیابی یہی کہی جائے گی کہ اس کے روح رواں اور مولانا کی پسندیدہ شخصیت کو بہار کونسل کی ممبری مل گئی۔ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ دیر یا سویر مولانا کوبھی راجیہ سبھا کی ممبری مل جائے۔ اگر یہی دین بچاؤ اور دیش بچاؤ ہے تو یہ دین اور دیش دونوں کے ساتھ مذاق ہوا اور ایسا مذاق کہ جو لوگ کانفرنس میں آئے ہوں گے وہ پچھتا رہے ہوں گے کہ یہ تو نتیش کمار کی کانفرنس تھی جو لالو پرساد اور ان کے لڑکوں کی حوصلہ شکنی کیلئے کی گئی تھی جو نتیش اور مودی سے برسرپیکار ہیں۔ پورے ہندستان کے مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندستان کا ہر اچھا شہری اس وقت نتیش کمار کو ’غدارِ بہار‘ یا ’غدارِ وطن‘ کہہ رہا ہے، کیونکہ نتیش نے جمہوریت اور وطن کو بچانے کیلئے لالو پرساد یادو سے اتحاد کیا تھا۔ مگر جب لڑائی زوروں پر تھی تو لالو پرساد ہی کو نہیں اپنے تمام ووٹروں کو دغا دے کر بھاجپا یا مودی کے ساتھ ہوگئے۔ مسلمانوں میں زبردست غصہ ہے اور غصہ رہے گا۔ مگر دین بچاؤ اور دیش بچاؤ کے نام پر جو غصے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، میرے خیال سے کامیاب نہیں ہوگی۔ میں صاف صاف لفظوں میں لکھ رہا ہوں تاکہ ملت کے ہر فرد کو معلوم ہوجائے کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ اس کانفرنس سے سب سے زیادہ مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی بدنامی ہوئی۔ مولانا موصوف چونکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنر ل سکریٹری ہیں اور امارت شرعیہ بہار و جھار کھنڈ اور اڑیسہ کے امیر شریعت ہیں، اس لئے بورڈ بھی بدنام ہو اور امارت شرعیہ کی بدنامی تو اظہر من الشمس ہے۔ 
مولانا ولی رحمانی نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ناموری نہیں کی ، وہاں بھی انھوں نے ’’دین اور دستور بچاؤ‘‘ کے نام پر تحریک چلائی۔ بورڈ میں بہت سے لوگوں نے اس کی مخالفت کی کہ بورڈ کے دائرہ کار سے یہ چیز باہر ہے۔ آخر پھر کیوں ایسی چیز کی جارہی ہے۔ دوسری بات ہے کہ دستور میں ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو دین کے خلاف ہے۔ دستور میں رہنما اصول (Directive Principle)جس کی دفعہ 44 میں یکساں سول کوڈ نافذالعمل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ بورڈ شروع دن سے یکساں سول کوڈ کے خلاف ہے اور یہ بھی بورڈ کا مطالبہ ہے کہ یکساں سول کوڈ کی بات جہاں دستور میں کہی گئی ہے۔ اس سے مسلم پرسنل لاء کو مستثنیٰ (Exception) قرار دیا جائے۔ بورڈ کی کتابوں میں ہے کہ یکساں سول کوڈ کی تلوار مسلم پرسنل لاء پر دستور جس دن بنا اس دن سے لٹک رہی ہے۔ دوسری اہم بات ہے کہ دستور ہند میں بہت سی باتیں اسلام یا شریعت کے خلاف ہیں ایسی بیسیوں باتیں ہیں مثلاً دستور میں سود حلال ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں سودی نظام رائج ہے۔ اسلام یا شریعت میں حرام ہے، ہر شخص جانتا ہے۔ مولانا ولی رحمانی کو ان سب باتوں کا علم ہے۔ مولانا کے اس اقدام یا مہم سے بورڈ بدنام ہوا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے ان کا بیان تھا کہ جو بھی فیصلہ آئے گا بورڈ منظور کرے گا۔ فیصلہ جب خلاف آئے گا تو مولانا کا بیان آیا کہ فیصلہ کا خیر مقدم ہے، کیونکہ اس سے بورڈ کے موقف کی جیت ہوئی ہے۔ 
بورڈ ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے مولانا اس کے جنرل سکریٹری ہیں۔ ان کی شخصیت اگر مجروح ہوتی ہے تو بورڈ بھی مجروح ہوتا ہے۔ مولانا نے بورڈ میں جو عنوان مہم کا چنا تھا اور امارت شرعیہ میں میں جو چنا گیا اس سے ملتا جلتا ہے۔ یعنی ’دین‘ باقی رہا ’دستور‘ ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ ’دیش‘ کا لفظ شامل کردیا گیا۔ بورڈ کے ذریعہ جو مہم چلائی گئی وہ بھی سیاست سے قریب معلوم ہوتی تھی۔ امارت شرعیہ کی طرف سے جو کانفرنس ہوئی وہ میرے خیال سے سو فیصد سیاسی تھی۔ اگر سیاسی نہ ہوتی تو کانفرنس میں صرف مرکز کے خلاف غصہ نہیں اتارا جاتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ نتیش کمار کے خلاف (جو بہار میں مہاگٹھ بندھن(عظیم اتحاد) کو توڑ کر این ڈی اے کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں) بولا جاتا۔ اگر کانفرنس سیاسی نہیں ہوتی تو خالد انور کو جو بی جے پی اور جے ڈی (یو ) کے قریب ہیں ان کو کانفرنس میں نظامت کی ذمہ داری نہیں سونپی جاتی اور کانفرنس میں مولانا ولی رحمانی کی طرف سے خالد انور کیلئے تعریفی کلمات نہ کہے جاتے۔ تعریفی کلمات کا مطلب تھا کہ یہ بھیڑ جو میدان میں نظر آرہی ہے یہ میرے اور خالد انور کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جبکہ خالد انور کانفرنس کو کامیاب کرنے کیلئے جو میٹنگیں ہوئیں اس میں کسی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ خالد انور کا نام مجھ جیسے لوگوں نے پہلی بار سناہے۔ اگر کانفرنس نہ ہوتی اور انھیں ایم ایل سی نہ بنایا جاتا تو شاید یہ نام سننے کو نہیں ملتا۔ 
اس کانفرنس سے نتیش کمار اور نریند مودی کو کیا فائدہ ہوا؟ نتیش کمار کی پارٹی اور نریندر مودی کی پارٹی کے لوگ بتا رہے ہیں کہ ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ مسلمانوں میں جو نتیش کمار کے خلاف غصہ تھا اس میں کمی ہوئی اور دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ بی جے پی کو یہ ورغلانے کا موقع مل گیا کہ مسلمان اکٹھا ہورہے ہیں۔ ہندوؤں کو بھی اکٹھا ہونا چاہئے۔ اس کو پولرائزیشن کہتے ہیں کہ ہندو ایک طرف ہوجائیں، مسلمان دوسری طرف ، تاکہ ہندوؤں کا سارا ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں چلا جائے۔ اس کانفرنس سے پولرائزیشن کا کام کیا گیا ہے جو بی جے پی کے نزدیک ایک بڑا کام ہے جو 2019ء کے لوک سبھا کے الیکشن میں ان کے کام آئے گا۔ بہار میں اسمبلی کا حالیہ الیکشن ہورہا تھا تو بہار کے مسلمانوں نے اسدالدین اویسی کی زبردست مخالفت کی تھی اور انھیں بڑی ناکامی ہوئی تھی۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ تھا کہ کسی طرح بی جے پی کو ہرایا جائے۔ اس میں کامیابی ہوئی تھی مگر نتیش نے بعد میں جاکر مہا گٹھ بندھن کو دغا دے دیا، یہ دوسری بات ہے۔ آج ان کی جگہ اگر مولانا ولی رحمانی واسطہ یا بالواسطہ نتیش اور مودی کی حمایت یا مدد کر رہے ہیں تو کیا یہ توقع رکھتے ہیں کہ 2019ء میں ان کا اویسی جیسا حال نہیں ہوگا؟ 

[email protected] 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here