امن کے قیام کے لیے علما کا کردار اور ان کے فرائض

0
818
All kind of website designing

محمد یاسین جہازی قاسمی ، مرکز دعوت اسلام جمعیۃ علمائے ہند
امن کے قیام کے لیے علما کا کردار اور ان کے فرائض
امن کے تعلق سے اسلام کا نقطۂ نظر
اسلام میں امن کامفہوم بہت وسیع ہے۔ اسلام سلم سے مشتق ہے ۔ اس کے معنی ہی امن و سلامتی کے ہیں۔ اس کے امن و امان کا پیغام صرف مسلمانوں یا انسانوں تک محدود نہیں ؛ بلکہ کائنات کے ہر ذی روح کے لیے عام ہے۔قیام امن اسلام کا محض ایک شعبہ ہی نہیں ؛ بلکہ یہ اس کا ایک اہم مقصد ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام باہمی اتحادو اتفاق اور بین الاقوامی تعاون و اشتراک کی حمایت کرتا ہے اوردنیا کے تمام انسانوں کے ساتھ عدل و مساوات، ہمدردی و خیر خواہی اور صلح و آشتی کی تعلیم دیتا ہے۔اس کے برخلاف ہر قسم کے ظلم و ستم، فتنہ وفساد ، تشدد و نفرت اور دہشت گردی کا سخت مخالف ہے۔ انسان بحیثیت انسان مشرقی و مغربی ، شمالی و جنوبی ، کالے و گورے، عربی و عجمی، ہندی و غیر ہندی اور نسلی و خاندانی کسی قسم کے امتیاز کا روا دار نہیں ہے۔وہ سب کو برابری کی نظر سے دیکھتا ہے: الناس سواسیۃ کاسنان المشط، لافضل لعربی علٰی عجمی، ولا لابیض علٰی اسود، ولا لاحمر علٰی اصفر۔ کلکم بآدم، وآدم من تراب۔
اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے ،جو انسانیت اور احترام انسانیت کا سب سے بڑا علمبردار ہے ۔ اسلام کا یہ واضح پیغام ہے کہ جو کسی ایک شخص کو ناحق مار ڈالتا ہے ، تو وہ صرف ایک شخص کاقاتل نہیں ؛ بلکہ گویا پوری انسانیت کا قاتل ہے۔ اسی طرح جو کوئی ایک نفس کی حفاظت کرتا ہے ، تو وہ صرف ایک جان کی حفاظت نہیں ؛ بلکہ سارے انسانوں کے بچانے کے مرادف ہے۔ارشاد خداوندی ہے : من اجل ذٰلک کتبنا علیٰ بنی اسرائیل انہ من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض،فکانما قتل الناس جمیعا، ومن احیاھا فکانما احیا الناس جمیعا(المائدہ، الایۃ ۳۲)۔ اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو قتل کرڈالے، تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے، گویا تمام لوگوں کو بچا لیا۔بارہا اور متعدد مقامات پر یہ اعلان کیا گیا کہ ان اللہ لایحب الظالمین ۔ ان اللہ لایحب الفساد۔ کہ اللہ کو ظلم کرنے والے ناپسند ہیں۔ وہ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ان احکامات کی روشنی میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام نے امن اور قیام امن کے حوالے سے ہدایات کا ایک مکمل گلدستہ اور جامع مرقع پیش کردیا ہے۔
موجودہ حالات پر ایک نظر
آج پوری دنیاعجیب کشمکش سے دوچار اور حیران کن مخمصے کی شکار نظر آرہی ہے۔ ہر سمت بے چینی، بے اطمینانی، بد امنی، بد عنوانی، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کی لعنت پھیلی ہوئی ہے۔ امن و سکون اور صلح و آشتی کا ایسا فقدان ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ اور بے یارو مددگار خیال کرنے پر مجبورہے۔جانور؛ حتیٰ کہ موذی حیوان سانپ بھی اپنے جنس کو نہیں ڈستا؛ لیکن یہاں انسان خود اپنے بھائی ہی کے خون کا پیاسا ہوگیا ہے، آدمی آدمیت کا قاتل اور انسان انسانیت کا دشمن نظر آرہا ہے، غرض پوری دنیا عالمی شر و فساد او ر بین الاقوامی کرپشن و فتنہ میں مبتلا نظر آرہی ہے۔
امن وامان کے اس عالمی بحران کو ختم کرنے لیے دانشور، مغربی مفکرین، جارح حکومتیں اور اقوام متحدہ دنیا بھر میں مختلف سطح پر کوششیں کر رہے ہیں : ریزولیشن پاس کیے جارہے ہیں، دستاویزات مرتب کی جارہی ہیں، عہدنامے تیار کیے جارہے ہیں، مذاکرات ہورہے ہیں اور کانفرنسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، طاقت بھی آزمائی جارہی ہے؛ لیکن ظلم وطغیانی ودہشت گردی کاخاتمہ اور امن و امان کا قیام، ایک خواب پریشاں ہی نظر آتا ہے۔
قیام امن کے لیے علما کی ذمے داریاں
موجودہ حالات کے تناظر میں علما کے لیے یہ لازم و ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ قیام امن کے لیے اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے اپنا مفروضہ کردار اداکریں اور دنیا کو اسلام کے پیغامات و ہدایات سے روشناس کراتے ہوئے یہ بتائیں کہ اگر قرآنی احکامات اور نبوی تعلیمات کوزیر عمل لایا جائے تو دنیا امن وامان کا گہوارہ اور صلح و آشتی کا سائبان بن جائے گی۔اور نقض امن اور فتنہ و فساد کا یکسر خاتمہ ہوجائے گا۔
اسلام صرف امن و سلامتی کا ایک مذہب ہی نہیں؛ بلکہ اس کا داعی اور محرک بھی ہے۔ انسانی جورو جفااور ظلم و ستم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے باوجود۔ کچھ اپنوں کے غلط کردار اور منفی طرز عمل کی بنیاد پر اور کچھ غیروں کی شرارت و فتنہ پروری کے باعث ۔اس کا رشتہ دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے۔ پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور دیگر ذرائع مواصلات کے توسط سے یہ تاثر دینے کی مذموم سعی پورے زور شور سے جاری ہے کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے اور اس کے ماننے والے مسلمان دہشت گرد ہیں۔ ایسے حالات میں داعیان و مبلغین اسلام کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ حالات کا تجزیہ کرکے ان کے تقاضے اور چیلینجز کے مطابق ایسی حکمت عملی تیارکریں، جس سے اسلام کا بے داغ چہرہ سب کے سامنے نمایاں ہوسکے اور پھر وہ یہ باور کرنے پر مجبور ہوجائیں کہ اسلام ہر قسم کی دہشت گردی و تشدد کا نہ صرف مخالف ہے ؛ بلکہ اس کا خاتمہ اور امن و امان کا مکمل قیام صرف اسلامی ہدایات پر چل کر ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
قیام امن کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: (الف)ظلم کے محرکات کی نشاندھی۔ (ب) پھر اس کے تناظر میں حکمت عملی کی تجویز۔
ظلم کے محرکات
تعصب و نفرت۔۔۔ظلم و تشدد کے اصل محرک ہیں۔ تعصب و نفرت کی درج ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں:
۱۔لسانی اختلاف۔
۲۔ علاقائیت۔
۳۔ نسلی تفاخر۔
۴۔ مذہبی تنگ نظری۔
۵۔ مسلکی تشدد۔
۶۔ملکی تعصب۔
کبھی ایک انسان دوسرے انسان کو اس لیے خاطر میں نہیں لاتا کہ دوسرے کی زبان اس سے الگ ہے۔ زبان کے اختلاف کو دل کے اختلاف تک لے جاتا ہے اور اس کے ساتھ امتیاز برتنے لگتا ہے۔ علاقائیت بھی ظلم کی وجہ بنتی ہے ۔ نسلی تفوق و امتیاز سے بھی تعصب و نفرت جنم لیتی ہے اور انسان اعلیٰ و ادنیٰ کی حدوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کو انسانی برتاوکے قابل نہیں سمجھتا۔ مذہبی اختلافات، فرقہ پرستی کا سبب بنتے ہیں اور تشدد کا راستہ کھلتا ہے۔ مسلکی نظریات کی بنیاد پر بھی انسان ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتا ہے۔ کبھی گورا ہونا،کالا ہونا نفرت کی بنیاد بن جاتا ہے ۔ سرحد اور ملک کے الگ ہونے کی وجہ سے بھی انسان آپس میں امتیازبرتنے لگتے ہیں ۔ ان تنوعات کے وقت انسان یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب اس کے اندر عارضی صفات ہوتی ہیں۔ ہمدردی و مساوات کی اصل وجہ تو اس کا انسان ہونا ہے اور سب انسان بحیثیت انسان برابر ہیں۔
قیام امن کی تجاویز
قیام امن کے لیے دائرۂ کار کے اعتبار سے درج ذیل سطح پر کوششیں کی جاسکتی ہیں:
(الف) انفرادی سطح پر قیام امن ۔
(ب)سماجی سطح پر قیام امن۔
(ج) بین مذاہب سطح پر قیام امن۔
(د)ملکی و بین الاقوامی سطح پر قیام امن۔
انفرادی طور پرکوشش کے ذریعے امن و امان کی فضا قائم کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ جس کے پاس جس طرح کا موقع اور قوت عمل ہے ، وہ اس اعتبار سے قیام امن کی کوشش کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ مقرر ہے ، توتقریری مواقع پید اکرکے اسلام کے اس پیغام کو عام کرسکتا ہے ۔ اگر کوئی قلم کار ہے تو وہ اپنی تحریر سے اس فریضہ کو انجام دے سکتا ہے۔ کوئی صاحب حیثیت ہے تو وہ اس طرح کے لٹریچر، پمفلٹ اور کتابچے شائع کراکے اس کار خیر میں حصہ لے سکتا ہے ، وغیرہ ۔سماجی سطح پر بھی قیام امن کی کوشش کی جاسکتی ہے ، مثلا اس طرح کہ اگر کوئی مختلف و مخلوط مذاہب پر مشتمل سوسائٹی یا کالونی میں رہتا ہے تو وہاں کوئی ایسی مشترکہ کمیٹی بنالی جائے ، جس کے بنیادی مقاصد میں اخوت و بھائی چارگی اور مل جل کر رہنے کا عزم محکم شامل ہو۔علاوہ ازیں اپنے اخلاق و کردار، پڑوسیوں کے حقوق اوران کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی جو اسلامی ہدایات ہیں ، ان پر کاربند ہوکر سماج کو پر امن اور مثالی بنائے۔ہندستان جیسے کثیر مذہبی و کثیر لسانی ملک میں۔ جہاں زیادہ تر فسادات کی وجہ یہی مذہب کا اختلاف اور زبان کا الگ ہونا ہے۔قیام امن کے لیے یہ کوشش کی جاسکتی ہے کہ مختلف مذاہب کے نمایندوں کے مابین مکالمہ و مفاہمت کا سلسلہ شروع کیا جائے ، جس میں اپنے مذہب کی برتری ظاہر کرنے کے بجائے ۔جو مناظرہ و مناقشہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور لڑائی و تشدد کا باعث بن جاتا ہے۔اسلام میں عصر حاضر کے تمام مسائل و مشکلات کے حل کا فارمولہ پیش کیا جائے ۔اس طرح سے جہاں مختلف مذاہب کے مابین رواداری اور ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ پیدا کرسکتے ہیں ، وہیں ایک اہم فائدہ یہ بھی حاصل ہوگا کہ دوسرے مذاہب کے جو حضرات صرف ترجمہ پڑھ کر یا احکام کو ان کے پس منظر سے ہٹا کر اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں ، اس کا ازالہ ممکن ہوسکے گااور اسلام کا صحیح پیغام ان کے سامنے رکھنے کا موقع ہاتھ آئے گا۔ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھی اسلام کے عالمی مصالحت پسندی اورآفاقی رواداری پر مبنی قوانین کی تشریح و تبلیغ کر کے امن و امان کے قیام کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے اور دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنانے میں خوب صورت کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔
قیام امن کی کوششوں کا یہ کوئی حتمی و قطعی طریقۂ کار نہیں ہے؛ بلکہ ایک بنیادی اور ابتدائی خاکہ ہے ، اس میں آپ اپنی بیش قیمت رائے اور حکمت عملی کو بھی شامل کرسکتے ہیں ، جس سے فضائے امن و سکون کو عام کرنے میں مدد مل سکے اور تشدد و نفرت سے بہت پاک ر ایک صالح معاشرے کی تشکیل عمل میں لائی جائے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here