تحقیق تکرار کا نہیں تازہ کاری کا نام ہے :پروفیسرارتضی کریم 

0
416
دائیں ڈاکٹر سید رضا حیدر،پروفیسرارتضی کریم ،پروفیسرصدیق الرحمان قدوائی ،پروفیسر عتیق اللہ اور ڈاکٹرعباس رضا نیر 

غالب انسٹی ٹیوٹ وقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام منعقد بین الاقوامی سمینار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

نئی دہلی:غالب انسٹی ٹیوٹ و قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار کے اختتامی اجلاس کی صدارتی تقریر کرتے ہوئے پروفیسر صدیق الرحمان قدوائی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس سمینار کے ذریعہ بہت سی یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات سے ملاقات کا موقع ملا۔ تحقیق ہر جگہ ہورہی ہے مگر تحقیق پر اس کے تقاضے کے مطابق توجہ نہیں دی گئی۔ ہمارے یہاں ہندوستان میں تحقیق کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور فن وثقافت سے توجہ ہٹ رہی ہے۔ تحقیق کا کام پوری زندگی کا کام ہے۔ تحقیق کے میدان میں تحقیق کے دوران کئی موضوعات ملتے ہیں ، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں ،جنہوں نے اپنے کاموں کو سرے سے ریجیکٹ کردیا۔اور پھر نئی راہ کے مسافر ہوگئے۔

  تحقیق کا مقصد آزادئ فکر وخیال کی پرورش ہے۔ علمی و تحقیقی دنیا میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔تحقیق کے کام میں ڈرنے گھبرانے کی نہیں ریاضت کی ضرورت ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ صرف دہلی نہیں دیگر شہروں میں بھی سمینار منعقد کررہاہے تاکہ اردو کی دنیا پھیلتی جائے۔ 
پروفیسر عتیق اللہ نے اپنی خصوصی تقریر میں کہاکہ جب شاگرد استاذ سے آگے نکلتا ہے تو اساتذہ کو خوشی ہوتی ہے۔ یہ سمینار اپنی نوعیت کا یکتا اور قرار واقعی بین الاقوامی سمینار ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس سمینار کا انعقاد کرکے طلبہ وطالبات کو فیسٹول منانے کا موقع دیا۔ آپ سب لغات کا استعمال ضرور کریں۔ تمام یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ایم اے کے نصاب میں فارسی کو ضرور شامل کریں۔ ماضی کے متون اور مخطوطات کو پڑھنے کے لیے فارسی کی شد بد ضروری ہے کلاسیکیت کی طرف ایک بار پھر سے متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ قرات میں روانی علم کے حصول کو سازگار بناتی ہے۔ علم کے خزانے تک رسائی کے لیے بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے, کوئی کتاب مکمل نہیں ہوتی کوئی مقالہ مکمل نہیں ہوتا۔ اپنے کام میں نئی بات لانے کے لئے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ قرات در قرات کے بعد آپ کسی متن کیساتھ انصاف کرسکیں گے۔ نثر کی طرف ہمارے طلبہ کا رجحان بڑھ رہاہے۔ یہ دورشاعری سے دوری کا سبب بن رہاہے۔ انٹر نیٹ پر ضرورت سے زیادہ تکیہ کرلینے کی وجہ سے ہماری یادداشت کمزور ہورہی ہے، جب لسانیاتی ابہام پیدا ہوتا ہے تو ثقافتی ابہام پیدا ہوتاہی ہے۔ جدیدیت نے جو کچھ کیا تھا وہ سلسلہ آج بھی قائم ہے۔ پروفیسر ارتضی کریم،ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ اس سمینار کے انعقادکا فن غالب انسٹی ٹیوٹ کو ہی آتا ہے۔ ہر سال بڑی محنت کے بعدیہ سمینار منعقد کرتاہے ۔اگلے بین الاقوامی سمینار میں ہماری کوشش ہوگی کہ تین کے بجائے تیرہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز شامل ہوں۔ اگر تحقیق میں زوال آیا ہے یا تحقیق میں کوتاہی ہورہی ہے تویہ کیوں ہورہاہے ۔ قاعدے سے ریسرچ کرنے والوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحقیق اور سندی تحقیق کا معیار کیوں زوال پذیر ہے اس پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ طلبہ وطالبات کو بتانے کی ضرورت ہے کہ کلاسیکی شاعری ہے کیا۔ داستان ہے کیا۔ خواب میں جینا چھوڑیں اور زمینی سچائیوں کا سامناکریں ۔تحقیق تکرار کا نہیں تازہ کاری کا نام ہے۔ طلبہ وطالبات رسائل وجرائد اور کتابیں خریدیں اور ان کا مطالعہ کریں۔جو بھی متن آپ پڑھیں اسے اپنی نظر سے پڑھیں اور اس سے نئے معانی تلاش کریں۔ اگلے سال سے بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار کو چار روزہ کردیں گے۔ 
اختتامی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر سید رضا حیدر، ڈائرکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ اس میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے بھرپور تعاون کیا اور اپنے اشتراک سے ہندوستان کی تقریبا تمام یونیورسیٹیوں کے طلبہ وطالبات نے مقالے پیش کئے۔ ڈاکٹر عباس رضا نیرنے کہا کہ غالب انسٹی اور قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نے شاندار سمینارکا انعقاد کیا ہے،جس دن آپ کا اعلان آتا ہے طلبہ وطالبات میں ہوڑ مچ جاتی ہے۔ اس سمینار میں ان اساتذہ سے بھی ملاقات ہوتی ہے، جو اردو تنقید کی راہیں طے کرتے ہیں۔ یہ سمینار بہار کے موسم میں اردو کے بہار کاموسم ہے، ہم سب اس سمینار سے مطمئن ہیں۔دیگر تحقیقات سے ادب کی تحقیق الگ چیز ہے۔ ادب لکھنے والا عام انسان نہیں ہے۔ متن پر کام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ 
اختتامی اجلاس میں اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے ترکی کی استنبول یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالرآرزو سورین نے کہا کہ ایسا سمینار ترکی میں بھی نہیں ہوتا۔ یہاں شرکت سے میں خوش ہوں۔تہران یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر معصومہ غلامی نے کہاکہ اس سمینار میں شرکت میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ یہاں بیٹھ کر مقالے سن کر نئے نئے موضوعات پر لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ماریشس کی بی بی سکینہ نے کہا کہ یہ بہت بڑا اسٹیج ہے، جہاں ہمیں پیپر پیش کرنے کا موقع ملا یہ میرا بڑا اعزاز ہے۔ جاپانی اسکالر مورا کامی آسوکا نے کہا کہ میں قومی کونسل اور غالب انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے مجھے موقع دیا۔ اس سمینار میں شرکت کرکے بہت کچھ مجھے سیکھنے کا موقع ملا۔ 
آخری روز کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسرعزیزالدین حسین ہمدانی وپروفیسر ابن کنول نے کی۔اس اجلاس کی نظامت محمد شفیق عالم نے کی۔اس اجلاس میں محمد توصیف خان،غلام نبی کمار،محمد ثناء اللہ ،اعجاز احمد،محمدصالح ظفر،محمد فیضان حسن نے اپنے مقالات پیش کیے ۔ 
آخری روز کے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر قاضی عبیدالرحمان ہاشمی اور پروفیسر علیم اشرف خاں نے کی نظامت نورین علی حق نے کی اس اجلاس میں معصومہ غلامی ،بی بی سکینہ، صالحہ صدیقی، ایس ٹی نور اللہ، امتیاز احمد علیمی،محمد فرحان، نائلہ تبسم، احسن ایوبی ،ابراہیم وانی،تنویر احمد میر اورشہناز رحمان نے اپنے مقالات پیش کئے۔ 
آخری دن کے تیسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر انور پاشا اور پروفیسر رضوان قیصر نے کی ۔ اس اجلاس کی نظامت توحید حقانی نے کی ۔اس اجلاس میں آرزوسورین ،نورین علی حق ،نیلوفریاسمین،شہ نور حسین،افتخار احمد،محمد سلیم ،سمیہ بانو ،عابدعلی خان اور محمد معین خان نے اپنے مقالات پیش کیے ۔اختتامی اجلاس کے بعد تمام مقالہ نگاروں ،ناظموں اور ریسرچ اسکالر سامعین کو سرٹی فکیٹ دیے گئے ۔اختتامی اجلاس میں اسٹیج پر موجودتمام ناقدین اور اساتذہ کے ہاتھوں ریسرچ اسکالر شہاب الدین قاسمی کی کتاب بیسویں صدی کا وضاحتی اشاریہ نامی کتاب کی رسم اجرابھی ہوئی ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here