رائے_اور_گائے_میں_فرق_ہے

0
1019
All kind of website designing

مولانا محمود مدنی اور نریندر مودی کے حوالے سے: 

سمیع اللہ خان

 کسی بھی ملک میں کمیونٹیز کی نمائندہ ملی و سماجی جماعتیں مین اسٹریم میں اسی وقت کامل نمائندگی کرپاتی ہیں جبکہ ریاست و مرکز سے ان کے تعلقات اور مذاکرات ہوں، ہمارے یہاں بھی ہر دو طبقات اس کا مکمل پاس و لحاظ رکھتےہیں، برسراقتدار جماعت کے افکار و نظریات نیز عزائم و حرکات پورے طور پر مذموم ہوں، اس کے باوجود مذاکرات اور گفت و شنید کے دروازوں پر اگر یہ جماعتیں تالا ڈال دیں تو پھر قوم کی نمائندگی کہاں کریں؟ 

اپنے ملک میں قوم کی سیاسی، تعلیمی، سماجی اور اقتصادی نیز تہذیبی و ثقافتی نمائندگی کہاں سے کریں؟ اپنے اپنے جلسوں اور مدرسوں سے یا دفاتر میں ضربیں لگا لگا کر؟   دراصل اس باب میں بھی غلطی ہم سے ہی ہوئی، ایک آزادجمہوری ملک میں ہم نے ایک نفاق پسند جماعت کو تو مکمل گلے لگایا اورابوجہل کو مکمل اچھوت بنایا،  نتیجہ بھی سامنے ہے، نفاق پسند کانگریس نے قوم کو سیاسی، سماجی اور تعلیمی میدان میں مکمل طور پر بدحال کیا، سیاسی قیادت کو پوری طرح مفلوج کردیا، تعلیمی میدان میں پسماندگی کی کھائی میں دھکیل دیا، سماجی سطح پر دہشتگرد بنوایا، جہاد اور جہادی عنوانات سے سماج میں قوم کی شبیہ مکروہ کی گئی، مدارس پر دہشتگردی کے لیبل مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں، مدرسہ بورڈ و لازمی تعلیم ایکٹ جیسے بے شمار وار کیے، معاشرتی سطح پر زہریلے بیج بوئے، ستر ہزار فسادات اس کے دور اقتدار میں ہوئے، لاکھوں مسلمان جلائے گئے، اور اب دوراہے پر لا کر کھڑا کردیاہے! 

ازخود جائزہ لیں کہ، ملک کے مین اسٹریم میں ہماری کیا حیثیت ہے.؟ سترسالوں سے ہماری ہی حمایت یافته کانگریس برسراقتدار تھی، کسی ایک شعبے میں ان ستر سالوں میں آپ خود کو مضبوط محسوس کرتے ہیں؟ اس کا از خود جائزہ لیں . اسوقت آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور ہندو مہا سبھا جیسی جماعتیں کھل کر زہر اُگل رہی ہے، کھلے عام خونریزی بھی ہورہی ہے، جمہوری ملک میں بیچ چوراہے پر، بلا کسی جرم، پے بہ پے، سینکڑوں انسان قتل کیے جاتے ہیں، کسی ایک مقدمے میں بھی اب تک مجرم کیفرکردار کو نہیں پہنچے ‌! یہ خرابی کیا چار سالوں میں در آئی؟کیا محض چار سالوں میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا پورا کا پورا سسٹم کرپٹ اور زہریلا ہوگیا؟ بیسیوں ریاستوں کی مقننہ، منتظمہ، اور اس سے جڑے ہوئے سینکڑوں شعبے کیا یکلخت بھگوائی ہوگئے؟ 

یہ دراصل کانگریس کے آشیرواد سے جاری ستر سالہ محنت کا نتیجہ ہے جو اب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو چند مٹھیوں میں جکڑے ہوئے ہے، دراصل ہونا یہ چاہیے تھا کہ، ہماری اپنی سیاسی قیادت ہوتی، منتظمہ اور مقننہ میں ہمارے افراد ہوتے، تعلیمات اور سماجیات میں ہماری بنیادیں ملکی مین اسٹریم تک پیوست ہوتیں! افسوس کہ ہم ایسا نہیں کرسکے، اور ستر سالہ قومی آشیر وادی رفتار کا حال ہمارے سامنے ہے، جس میں اصل منافق مجرم کی شناخت اب ہمیں کرنی ہے ۔

اگر ہم ملک کے مین اسٹریم میں اپنا وجود بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھے تو، کم از کم، ایک جمہوری ملک میں پورے طور پر اپنا اور قوم کا مستقبل چند ہاتھوں میں تھمانا مناسب نہیں تھا ، دلت، سکھ، اور دیگر طبقات نے اس باب میں دانشمندی کا ثبوت دیا ہے اور آج ان کی آوازیں اور ان کا وجود اس کا پتہ بھی دیتاہے ۔ مسلمانوں کا مزاج درحقیقت نرگسی ہے، ان کے اذہان ایک جمہوری ملک میں جس طرح مخصوص ہوگئے ہیں اس کے اثرات ابھی سے دیکھنے کو مل رہےہیں نجانے آئندہ نسلیں کس صورتحال میں جئیں گی، ایک طرف قیادتیں قومی احتساب اور حدود اربعہ سے بالاتر چھوئی موئی والی روش پر ہیں،دوسری طرف قوم کو شکایت بھی ہوتی ہے، ساتھ ہی، عقیدتوں کا عالم تقدس زدگی کی معراج پر پہنچایا گیاہے، اور اب اس بےشعوری کی آبیاری ہم بھگت رہےہیں، اہل نظر خوب جانتےہیں کہ، یہی عقیدت مند قوم اس وقت بے لگام ہوجاتی ہے جب کمیونٹی کی روایات سے ہٹ کر کوئی بات ہوتی ہے، نئے تجربات کی کوئی سوچتا ہے، تو اس کی گھیرا بندی ہوتی ہے، اسلیے کہ یہ ذہنیت ستر سالوں سے پروان چڑھ چڑھ کر مضبوط ہوچکی ہے .  یہ عجب تاریخ ہے کہ آزاد و ملے جلے ملک میں ایک قوم ایسی ہے جس کی پالیسیوں کا کوئی دفتر نہیں، جس کے اتار چڑھاﺅ کی کوئی تاریخ نہیں، جس کے یہاں قیادت کا منظم سسٹم نہیں، پالیسی وہی جو روایت ہے، جو سینہ بہ سینہ منتقل ہے، یہ رویہ غیر شرعی بھی ہے اسلیے کہ ہماری شرع اپنا سسٹم اپنا ریکارڈ منظم رکھتی ہے،واجبی امر تھا کہ قوم کی مین اسٹریم نمائندگی منظم اور مرتب ہوتی، یہ رویہ غیر منطقی، غیر شرعی اور تکنیکی و واقعاتی لحاظ سے انتہائی نادرست رہا کہ جو روایات و رویے مذہبی و فقہی امور میں اپنائے گئے انہی کی عکاسی سیاسی اور ملی امور میں کی گئی، اور نتیجہ سامنے ہے، بے شعور عوام کو احتساب و استفسار کے حدود کی نہ آزادی ملی، نہ ہی سکھائے گئے! 

اب جبکہ ہمارے یہاں سے نامور مذہبی قائد حضرت مولانا محمود مدنی صاحب کو  برسراقتدار جماعت کے وزیراعظم سے ملنے پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، بڑے بڑے صحافیوں اور سوشل میڈیائی دانشوران کا جتھہ ان کی نیت و نسب تک پر حملہ آور ہے، جنہیں خانگی ذمہ داریوں میں عبور نہیں وہ بھی زبان و قلم چلارہے ہیں اور اس پہل کو تختہء مفکری بنارہے ہیں یہ دراصل اسی برسوں کی بوئی ہوئی بے شعوری کے ثمرات ہیں، اور پورے طور پر کمیونٹی کے غیر منظم ہونے پر دلالت کرتےہیں، 

پتہ ہی نہیں چلتا کہ قیادتیں قوم کی پالیسیاں طے کرینگی یا قوم اپنی اپنی بھانت بھانت کی بولیوں سے قیادتوں کی رہنمائی کرے گی؟ 

کیسی عجیب بات ہے ایک قاتل سے ملنے پر مطمئن ہوتےہیں، جس نے دوستی کے نام پر قوم کا ناس ماردیا، ایسوں سے ملو تو کوئی بات نہیں،جبکہ یہ بھی بدترین دشمن ہے! 

دراصل یہ بوئی ہوئی بے لگامی کا نتیجہ ہے، قوم کو جذباتیت کے من چلے بہاؤ میں تربیت دی گئی اور اب اس من چلے بہاؤ کے برعکس ہر قدم پر قوم کو ضد ہوجاتی ہے،اب  قوم کو قیادت کے ان اقدامات کی وضاحت چاہیے جس کا تعلق اقدامی بصیرت سے ہوسکتاہے ۔

 مولانا محمود مدنی نے مودی سے ملکر اور اب نشست میں شریک ہوکر ایک بہترین قدم اٹھایا ہے،اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے آپ اپنے ہی ملک کی حکومت سے ۳ طلاق دے کر، اپنے مسائل ایک جمہوری ملک میں حل نہیں کراسکتے! اب اس کے علاوہ آپ کے پاس کوئی چارہ نہيں کہ بظاہر سیکولر دکھائی دینے والی جماعت کو آنکھیں دکھانے والی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی بنیادیں تیار کریں، جن لوگوں کو مولانا کے اس اقدام سے الجھن ہے انہیں چاہیے کہ کم از کم وہ اگر اسے قومی قدم نہ سمجھیں تو فرد کی آزادی کا حق سمجھیں، ابوجھل سے ملنا کوئی غلط نہیں ہے، کیا ملکی سطح کا ایک ناظم یہ بھی حق نہیں رکھتا کہ اس کی اپنی آواز و فکر بھی نا ہو؟ 

اس قدم اور رائے کا احتساب ممکن ہے، البته یہ کیسا نرگسی رجحان ہے کہ کوئی امر طبع نازک پر گراں گذرے اور اپنی سمجھ میں نہ آئے تو سیدھے گلا گھونٹنے اور گھیرنے کی تیاری کی جائے! قوم کا یہ مزاج دراصل ہمارا اپنا ہی تعمیر کردہ ہے، اسلئے ان کی چھوئی موئی والی نفسیات اس بصیرت کو سمجھنے سے عاری ہے کہ سنگھ اور مودی سے مذاکرات بھی ممکن ہیں ۔

بعض طبیعتوں کو یہ تکلیف ہے کہ وہاں حضرت مولانا محمود مدنی صاحب نے مودی کو اس کی ظالمانہ پالیسیوں پر کھری کھری کیوں نہیں سنائی؟ ان کی خدمت میں دست بستہ عرض ہیکہ، یہ نشست کوئی جلسہ، جلوس یا کسی سیمینار کے لیے نہیں سجی تھی، یہ بیرون سے آئے ہوئے ایک مہمان کے استقبال میں سجائی گئی تھی، جس میں ملک کے تمام مذاہب و طبقات کے دانشوران کو مدعو کیا گیا تھا، اور مولانا محمود مدنی کا یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے ایسی جگہ سے اسلام کا سلامتی و محبت آمیز تعارف کرایا، اور یہی کیا کم ہے کہ جب مولانا مدنی یہ تعارف پیش کررہےتھے اس وقت سامعین میں بیٹھے سنگھی ذہنیت کے افراد اور اسٹیج پر براجمان سردار سنگھی نریندر مودی اسلامی تعارف کی پذیرائی کررہےتھے، چاہے نہ چاہے لیکن دشمنوں کی طرف سے یہ پذیرائی درحقیقت اسلام کی فکری جیت کا پیغام ہے ۔اور اس کا سہرا مولانا محمود مدنی کے سر ہے ۔کمال ہے کہ لوگ گھریلو مسائل کو باہر والوں کے سامنے موضوع بنانے کی بات کررہےہیں، مودی سے مولانا مدنی کی ملاقات پر اپنے ملک کے مسلمانوں کی پریشانیوں کو ببانگ دہل نہ کہنے کی یہاں تو شکایت کررہےہیں، لیکن، ابھی چند روز قبل جب ایران کے صدر حسن روحانی ہندوستان آئے اور حیدرآباد میں اویسی نے ان کا استقبال کیا مکہ مسجد میں ان کا خطاب ہوا، ان کی پذیرائی کی گئی، لیکن محترم اویسی نے عالم اسلام میں ایرانی حکومت کے خطرناک جرائم اور اسلام کے خلاف ان کی پالیسیوں اور شامیوں پر ان کے مظالم کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا،  اس قدر اسلامی غیرت کے حامل مسئلے پر کسی کو اختلاف نہیں ہوا! اور یہاں مودی سے ملنے پر چراغ پا ہیں، جبکہ دونوں اپنے اپنے طور پر نمائندگی ہی کررہےہیں! اور مولانا مدنی مودی کی غلط پالیسیوں اور ان کی حکومت میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم پر بولتے رہتےہیں، لیکن وہاں اس نشست میں جذبات کو توڑنا ہی اصل تھا، اس لیے کہ وہاں اس موضوع پر جذباتی حق بات کہنا ہماری طبیعت اور کانوں کے لیے تو بھلا تھا، لیکن وہاں، اس کی گنجائش نہیں تھی، اس کا محل نہیں تھا، ایسا کر کے دانشوران کی نظر میں مولانا مدنی مسلمانوں کی غیر منظم اور بے سلیقہ ہونے کی شبیہ قائم کرتے، لیکن انہوں نے موضوع پر رہتے ہوئے اسلام کا من موہنی تعارف پیش کر دشمنوں کو معترف ہونے پر مجبور کیا ۔

 اگر منفی ذہنیت اور ہر ہر مدعے پر خود کو فرد کے بجائے وکیل سمجھنے کا مزاج ختم ہو، اور ملمع ساز صحافت و بے روزگاری کے مارے سوشل میڈیائی مفکرین کی شناخت ہوجائے تو ایسے اقدامات پر عوامی مباحثے اور ہرزہ سرائیاں نہ ہوں، کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر ایک گرہ ماضی میں نہیں کھلی تھی تو اسے اب کھولا جارہاہے، اور ایسی کوششیں کرنے والے باحیثیت اور قیادت سے متعلق ہوں تو ان کے در پے جری ہونا قطعا مناسب نہیں ہے، آپ فرد ہوسکتےہیں وکیل نہیں، افسوس تو یہ ہیکہ اس ضمن میں آزاد مزاج، روشن خیال حضرات بھی بدترین ضد کا ثبوت دیتےہیں، اور قلمکار و صحافیوں کا طبقہ اپنی شراکتوں سے  قلمی حق و آزادی کی توہین کرتا ہے ۔

 درحقیقت قوم کے مزاج سے ، ہرنئی آواز، پالیسی، اور تجدیدی سرگرمیوں پر شب خون مارنے کا رجحان ختم ہونا ضروری ہے، اور اس کے لیے قومی شعور کی آبیاری لازمی ہے ۔ یہ سکھانا بہت ضروری ہیکہ رائے اور گائے میں فرق ہوتاہے، اگر رائے اور گائے کو برتنے کے پیمانے ایک ہوجائیں تو،گائے کے نام پر پھدکنے والے جنونی سنگھیوں اور اپڈیٹ زاویے کی قومی رائے پر بے قابو ہونے والی بھیڑ میں کیا فرق رہ جائے گا؟ 

 *؞سمیع اللّٰہ خان؞*

جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف 

[email protected]

 

 

 

 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here